ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعدادپر ترمیمی بل 2019 پیش

لوک سبھا میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعدادپر ترمیمی بل 2019 پیش

Mon, 05 Aug 2019 22:59:53    S.O. News Service

نئی دہلی، 05 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا میں پیر کو سپریم کورٹ (جج تعداد) ترمیم بل 2019 پیش کیا گیا جس میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد کو 30 سے بڑھا کر 33 کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ایوان زیریں میں پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال نے وزیر قانون روی شنکر پرساد کی جانب سے مذکورہ بل پیش کیا۔اب عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس (سی جے آئی) سمیت 31 جج ہیں۔سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) قانون، 1956 آخری بار 2009 میں نظر ثانی کیا گیا، جب سی جے آئی کے علاوہ ججوں کی تعداد 25 سے بڑھا کر 30 کی گئی۔ہندوستان کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ہائی عدالت میں ججوں کی تعداد بڑھانے کی اپیل کی تھی۔ہندوستان کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ججوں کی کمی کی وجہ قانون کے سوالات سے منسلک اہم معاملات میں فیصلہ لینے کے لئے ضروری آئینی بنچوں کا قیام نہیں کیا جا رہا۔بل کے مقاصد اور وجوہات میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔یکم جون 2019 تک سپریم کورٹ میں 58669 کیس زیر التوا تھے۔ہندوستان کے چیف جسٹس نے مطلع کیا ہے کہ ججوں کی ناکافی تعداد عدالت میں مقدمات کے زیر التواء ہونے کے اہم وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اعلی عدالتوں کے چیف جسٹس اور ججوں کیڈر کی تعداد 906 سے بڑھ کر 1079 ہو گئی ہے۔اس کی وجہ سے ہائی کورٹ کی سطح پر معاملات کے تصرف میں اضافہ ہوا ہے جس کا سبب سپریم کورٹ میں زیادہ تعداد میں اپیلیں کیا جانا ہے۔ایسے میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد کو فی الحال ہندوستان کے چیف جسٹس کے علاوہ 30 سے بڑھا کر 33 کرنے کے لئے سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) قانون، 1956 کو اور ترمیم کرنے کی تجویز ہے۔


Share: